جنگ جو
معنی
١ - لڑنے والے، جنگ کرنے والا، بہادر۔ "حضرت موسٰی، جنگجو اور مجاہد تھے۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٤٧:٣ ) ٢ - لڑاکا، جھگڑالو، جو لڑنے جھگڑنے پر تلا ہو۔ "آدمی بڑا بدخو، جنگجو، خودسر۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٤:١ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'جنگ' کے ساتھ مصدر 'جستن' سے مشتق صیغۂ امر 'جو' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے مرکب 'جَنْگ جو' بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "دیوان قائم" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لڑنے والے، جنگ کرنے والا، بہادر۔ "حضرت موسٰی، جنگجو اور مجاہد تھے۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ٧٤٧:٣ ) ٢ - لڑاکا، جھگڑالو، جو لڑنے جھگڑنے پر تلا ہو۔ "آدمی بڑا بدخو، جنگجو، خودسر۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ٤:١ )